جمعہ 2 جنوری 2026 - 13:12
علیؑ امامِ من است و منم غلامِ علیؑ

حوزہ/علیؑ امامِ من است و منم غلامِ علیؑ؛ یہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، نہ کسی عارضی جذبے کی بازگشت، بلکہ یہ ایک زندہ فکری عہد ہے جو انسان کے باطن میں جنم لیتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کے عقیدے، عمل اور پوری زندگی کی سمت متعین کر دیتا ہے۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| علیؑ امامِ من است و منم غلامِ علیؑ؛ یہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، نہ کسی عارضی جذبے کی بازگشت، بلکہ یہ ایک زندہ فکری عہد ہے جو انسان کے باطن میں جنم لیتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کے عقیدے، عمل اور پوری زندگی کی سمت متعین کر دیتا ہے۔

یہ ایسا جملہ ہے جو زبان سے ادا ہونے سے پہلے دل میں اترتا ہے، اور جب دل میں جگہ بنا لیتا ہے تو پھر زندگی کے ہر موڑ پر اپنا مفہوم خود بیان کرتا ہے۔

یہ کہہ دینے کی بات نہیں، بلکہ جینے کی حقیقت ہے—ایسی حقیقت جو انسان کے سوچنے کے انداز، چلنے کے راستے اور حق و باطل کے درمیان اس کے انتخاب کو واضح کر دیتی ہے۔

“علیؑ امامِ من است” کہنا دراصل اس حقیقت کو قبول کر لینا ہے کہ ہدایت صرف کتابوں کے اوراق میں مقید نہیں، بلکہ ایک زندہ، چلتا پھرتا، سانس لیتا نمونۂ عمل بھی ہے؛ اور “منم غلامِ علیؑ” کہنا اسی ہدایت کے سامنے اپنے نفس کو جھکا دینے، اپنی انا کو توڑ دینے اور حق کے ہاتھ میں ہاتھ دے دینے کا نام ہے۔

امامتِ علیؑ کا تصور کسی تخت و تاج، کسی سیاسی اقتدار یا کسی وقتی غلبے سے کہیں بلند ہے۔

یہ امامت علم کی ہے جو جہالت کے اندھیروں کو چیر دیتی ہے، یہ امامت عدل کی ہے جو طاقت کے غرور کو لرزا دیتی ہے، یہ امامت تقویٰ کی ہے جو دلوں کو زندہ کرتی ہے، اور یہ امامت انسانیت کی ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے۔

علیؑ وہ چراغ ہیں جن کی روشنی میں عقل کو سمت ملتی ہے اور ضمیر کو قرار۔ وہ محرابِ عبادت میں آنسوؤں کی خاموش زبان بھی ہیں اور میدانِ عمل میں حق کی للکار بھی۔

ان کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دین صرف مسجد کی چار دیواری تک محدود نہیں؛ وہ بازار میں بھی زندہ ہے، عدالت میں بھی بولتا ہے اور گھر کی دہلیز پر بھی سانس لیتا ہے۔

غلامیٔ علیؑ کا مفہوم اکثر سطحی سمجھ لیا جاتا ہے، حالاں کہ یہ غلامی کسی انسان کی نہیں، بلکہ ان اقدار کی ہے جن کی کامل تجسیم علیؑ کی ذات میں ہوئی۔ غلامیٔ علیؑ کا مطلب ہے ظلم کے سامنے ڈٹ جانا، کمزور کے لیے ڈھال بن جانا، اور طاقت کو امانت سمجھ کر استعمال کرنا۔

یہ غلامی انسان کو پست نہیں کرتی، بلکہ اسے خوددار بناتی ہے؛ یہ انسان کو غلام نہیں بناتی، بلکہ اسے خدا کے حضور جواب دہ اور بندوں کا خادم بناتی ہے۔

علیؑ کا علم ایک ایسا سمندر ہے جس میں اترنے والا کبھی تشنہ واپس نہیں آتا۔ ان کا ایک ایک قول حکمت کا چراغ ہے اور ان کا ایک ایک عمل حق کی تفسیر۔

وہ سوال کرنے والوں کے لیے معلم ہیں اور عمل کی راہ میں قدم رکھنے والوں کے لیے رہبر۔ ان کی عدالت میں دوست و دشمن کے نام مٹ جاتے ہیں اور میزانِ حق صرف حق کو تولتی ہے۔ اسی لیے علیؑ کی امامت کسی ایک گروہ، کسی ایک نسل یا کسی ایک زمانے تک محدود نہیں؛ وہ ہر اس دل کے امام ہیں جو سچ کی تلاش میں بے چین ہے اور عدل کی خوشبو پہچانتا ہے۔

جب ہم کہتے ہیں “علیؑ امامِ من است” تو دراصل ہم اپنے لیے ایک معیار طے کرتے ہیں:

علم میں دیانت،

عبادت میں خلوص،

اقتدار میں انصاف،

اور معاشرت میں رحمت۔

اور جب کہتے ہیں “منم غلامِ علیؑ” تو ہم اپنی انا، اپنی خواہش اور اپنی خود ساختہ بڑائی علیؑ کے در پر رکھ دیتے ہیں، تاکہ ہمیں انسان بننے کا سلیقہ آ جائے، حق پر قائم رہنے کا حوصلہ مل جائے اور باطل سے ٹکرانے کا حوصلہ پیدا ہو۔

یہی علیؑ کی امامت کا کمال ہے کہ وہ انسان کو بلند بھی کرتی ہے اور جھکنا بھی سکھاتی ہے؛ وہ بولنا بھی سکھاتی ہے اور وقت پر خاموش رہنا بھی۔ علیؑ کے در کا غلام ہونا دراصل خدا کے در کا باوقار مسافر ہونا ہے—ایسا مسافر جو راستے کی ٹھوکروں سے نہیں گھبراتا، کیونکہ اس کے سامنے ایک روشن چراغ ہے۔

آخر میں بس اتنا کہنا کافی ہے کہ اگر زندگی میں کوئی ایک سمت چننی ہو تو وہ علیؑ کی سمت ہو؛ اور اگر کوئی ایک شناخت ہو تو وہ یہی ہو—ایسی شناخت جس پر فخر بھی ہو اور جواب دہی کا احساس بھی:

علیؑ امامِ من است— اور میں پورے شعور، پورے یقین اور پورے فخر کے ساتھ کہتا ہوں: منم غلامِ علیؑ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha